اللہ رب العزت کا فرمان- حدیث قدسی

حدیث قدسی کا مطلب

حدیث قدسی اس حدیث پاک کو کھا جاتا ہے جس کا راوی (یعنی روایت کرنے والا) خود رسول کریمﷺ کی ذات ہو اور فرمان اللہ رب العزت کا ہو۔

حدیث قدسی کی تعریف
حدیث قدسی کی تعریف

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

نبی ﷺ نے اپنے رب ذالجلال کی ایک حدیث قدسی میں بیان فرمایا

 اللہ تعالی فرماتا ہے کہ 

میرے بندو’ میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کیا ہے اور تمھارے درمیان بھی۔ 

بس ایک دوسرے پر ہرگز ظلم نہ کرنا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندوِ” تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ھدایت دوں۔ پس مجھ ہی سے ھدایت مانگو’ میں تمھیں ھدایت دوں گا،

میرے بندو’ تم سب بھوکے ھو’ سوائے  اس کے جسے میں کھلاؤں۔ پس مجھ سے ہی کھانا مانگو’  میں تمہیں کھلاؤں گا۔

میرے بندو’ تم سب ننگے ہو’ سوائے اس کے جسے میں  کپڑے پہناؤں۔ پس مجھ ہی سے کپڑے مانگو’ میں تمہیں پہناؤں گا۔ 

میرے بندو’ تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں  سب گناہ بخش دیتا ہوں۔ پس مجھ سے  ہی  بخشش مانگو۔ میں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔

میرے بندو’ تم مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کہ میرا نقصان کردو ‘ نہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہو کہ میرا نفع کردو۔ 

میرے بندو’ اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس سب مل کر’ متقی سے متقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری سلطنت میں (مچھر کے پر کے برابر بھی) اضافہ نہ ھوگا۔

See also  Naat sharif-نعت شریف اردو-بہر دیدار مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آ جائیے

اور میرے بندو’ اگر تمہارے اگلے پچھلے اور جن و انس ایک جگہ جمع ہوجائیں اور مجھ سے وہ سب کچھ مانگ لیں جو چاہیں’ اور میں ان کو ہر منہ مانگی مراد دے دوں۔ تو بھی میری پاس (خزانوں میں) کوئی بھی کمی نہ آئےگی’  جیسے کہ سوئی کی نوک سمندر میں (کوئی کمی نہیں کرسکتی)۔

میرے بندو’ در حقیقت تو یہ تمہارے اعمال  ہیں جو میں تمہارے لیے گن گن کر رکھ رہا ہوں’ اور یہی تمہیں پورے کے پورے واپس کردوں گا۔

پس’ جسے آخرت مٰٰیں بھلائی ملے’ وہ اللہ کا شکر ادا کرے (کہ اس کی رحمت نے دست گیری کی) اور جسے اس کے بر خلاف (برائی) ملے’ وہ اپنے نفس کے علاوہ کسی کو ملامت نہ کرے (مسلم’ ترمذی’ ابن ماجہ ‘ مسند احمد)۔

حدیث قدسی کی تعریف

علم حدیث کی اصطلاح میں ’حدیث قدسی رسول اللہﷺ سے منسوب اس روایت کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ روایت کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں، یعنی اس کی سند اللہ تعالیٰ تک بیان کی جاتی ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کے لیے ”متکلّم“ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ملا علی قاری حدیث قدسی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث قدسی اسے کہتے ہیں جس کی روایت رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے فرمائی ہے کبھی حضرت جبریل کےواسطہ سے اور کبھی وحی الہام یا خواب کے ذریعہ سے اور آپﷺ نے اپنے الفاظ میں وہ مفہوم ادا فرمایا ہے۔

احادیث قدسیہ کو جمع کر کے الگ مؤلفات تیار کرنے کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف عُلماء کرام نے حسب معمول بہت جان ریزی سے کام لیا ہے، اور مختلف کتابیں مرتب کی ہیں، اُن میں سے کچھ تو ایسی ہیں جن میں صرف روایات مذکور ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جن میں روایات اپنے اصل مصادر کے حوالہ جات کے ساتھ مذکور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احادیث قدسی‘‘ علماء کی ایک کمیٹی کا احادیث کی مشہور ترین مجموعوں موطا امام اور صحاح ستہ سے قدسی روایات اخذ کے جمع کردہ ہے جسے دارالکتب العلمیہ،

See also  Naat Sharif-نعت شریف-نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے

بیروت نے شائع کیا ہے اسلامک بک فاؤنڈیشن دہلی نے اس مجموعہ کو مولانا ابو مسعود ندوی کے ترجمہ کے ساتھ بمع عر بی متن شائع کیا۔ بعد ازاں منشورات، لاہور نے اس مجموعہ کا صرف اردو ترجمہ شائع کیا ہے لیکن اس میں احادیث کے حوالہ جات درج کردئیے ہیں تاکہ اہل علم کو عربی متن کی تلاش میں دقت نہ ہو